ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امیت شاہ کا کرناٹکا دورہ ختم مگر کارکنان کو دیا ’مودی کے نام‘پر ووٹ مانگنے کا منتر

امیت شاہ کا کرناٹکا دورہ ختم مگر کارکنان کو دیا ’مودی کے نام‘پر ووٹ مانگنے کا منتر

Sat, 24 Feb 2018 11:50:00    S.O. News Service

ہبلی 24؍فروری (ایس او نیوز) ساحلی علاقے کے دورے پر آئے ہوئے بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے کرناٹکا اسمبلی کے لئے انتخابی مہم کو قطعیت دیتے ہوئے کارکنان کو بس ایک نکاتی منصوبے کے طور پر یہ منتر دیا کہ عوام سے امیدوار کے لئے نہیں بلکہ مودی کے نام پر ووٹ مانگا جائے اور امیدوار پر نظر ڈالے بغیر صرف کنول کے آگے نشان لگانے کے لئے کہا جائے۔

بی جے پی حکومت کے چانکیہ امیت شاہ نے کارکنان کے سامنے اپنا آزمودہ نسخہ’پنّا پرمکھ‘ یعنی’ ووٹرلسٹ کے ہر صفحہ کا ایک ذمہ دار‘ پیش کیا۔جس کے تحت بوتھ لیول پر بی جے پی کا ہر کارکن کام کرے گا اور ہر ووٹرلسٹ کے ہر صفحہ پر موجود ووٹرس کا جائزہ لینے اور ان ووٹوں کو بی جے پی کے حق میں پول کروانے کا ذمہ دار ہوگا۔جنوبی کینرا کے بنٹوال میں منعقدہ بی جے پی کے بوتھ لیول کارکنان کے کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا: ’’میں اپنے کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ امیدوار کی طرف نہ دیکھیں۔ بس کنول (پارٹی کے نشان) اور مودی کی تصویر دیکھیں۔آپ کا کام اسمبلی الیکشن جیتنا نہیں ہے بلکہ آپ کی ذمہ داری اپنے بوتھ کو جیتنا ہے۔اور جب ایسے بہت سارے بوتھ جیتے جائیں گے تو پھر ہم الیکشن جیت جائیں گے۔‘‘ 

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق کرناٹکا میں تقریباً 56,000پولنگ بوتھس موجود ہیں۔اور ہر پولنگ بوتھ کے حصے میں آبادی اور علاقے کی مناسبت سے قریب 1200ووٹرز ہوتے ہیں۔ اس بار ریاستی انتخاب کوبی جے پی کی طرف سے ہر قیمت پر کانگریس سے اقتدار چھین لینے کی جنگ کا روپ دیا جارہا ہے اورپارٹی کے ریاستی صدر ایڈی یورپا کو ہی وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنائے جانے کی باتیں بھی حالانکہ صاف ہوگئی ہیں ، پھر بھی الیکشن کے دن قریب آنے پر یا پھر الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد بی جے پی کا کوئی نیا پینترا سامنے آنے کے امکانات کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

امیت شاہ کے دئے گئے فارمولے پر عمل کروانے کے لئے بی جے پی کے آرگنائزنگ سیکریٹری ارون کمار نے بی جے پی کارکنان کوسرگرم عمل ہوجانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے اپنے بوتھ کی سطح پر ووٹروں کو +B, A, A اور Cکے زمروں میں تقسیم کریں۔اور اسی مناسبت سے ان کے ساتھ رابطے اور ذہن سازی کا کام شروع کریں۔+A کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی طور پر بی جے پی کے ہی کٹرووٹرز ہیں اور ہر قیمت پر یہ ووٹ اسی کو ملیں گے۔ Aزمرے کامطلب یہ ہے کہ یہ سب بی جے پی کے جوشیلے حمایتی ہیں۔Bزمرے میں ان ووٹرز کو رکھا گیا ہے جو کہ بی جے پی کے ساتھ اتفاق اور ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں اور انہیں پارٹی کے حق میں ووٹ دینے کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے۔Cزمرے میں ایسے ووٹرز ہیں جو کہ کبھی بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دے سکتے۔

کہاجاتا ہے کہ امیت شاہ نے سوشیل میڈیا پر فعال کردار اداکرنے کے گُر بھی کارکنان کوسکھائے اور ایک 23 نکاتی لائحۂ عمل بناکر دیا ہے۔جس میں سے ایک یہ ہے کہ ہر کارکن کم ازکم پانچ وہاٹس ایپ گروپ بنائے گا اور سوشیل میڈیا پر پارٹی کے حق میں رائے بنانے کے لئے اس کا استعمال کرے گا۔مگر سیاسی تجزیہ نگار اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے فیکلٹی نریندر مالپانی کے مطابق ریاستی انتخاب پر پوری طرح مرکزی لیڈروں کے کنٹرول سے بی جے پی کو کچھ نقصان بھی ہوسکتا ہے ، کیونکہ اس سے مقامی اور ریاستی لیڈروں کی پوزیشن کمزور ہوجاتی ہے اور ان لیڈروں یا امیدواروں کے حامیوں کی طرف سے کچھ رکاوٹیں سامنے آسکتی ہیں۔


Share: